مرزا غالب

مشہور قول کے مطابق غالب 27 دسمبر 1797ء کو کالا محل، آگرہ میں پیدا ہوئے۔ مشہور پاکستانی ماہر فلکیات سید صمد حسین رضوی (متوفی 2009ء) کی تحقیق کے مطابق غالب 8 جنوری 1797ء کو پیدا ہوئے تھے۔  مرزا کے آباء و اجداد میں مرزا کے دادا مرزا قُوقان بیگ سمرقند سے ہجرت کرکے مغل شہنشاہ احمد شاہ بہادر کے عہدِ حکومت میں غالباً 1748ء یا 1750ء میں مغلیہ سلطنت میں آ کر آباد ہوئے۔ اُن کا مغل شہنشاہ محمد شاہ کے دربار سے وابستہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 1748ء سے قبل ہی ہندوستان میں وارد ہو چکے تھے۔ یہ خاندان حسب و نسب کے اعتبار سے ترک مغل تھا اور تورانی النسل ہونے کے ساتھ ساتھ سمرقند میں آباد ہونے سے اِنہیں سمرقندی ترک بھی سمجھا جاتا تھا۔ غالب کے دادا مرزا قُوقان بیگ ہندوستان آمد کے بعد چند دن لاہور میں مقیم رہے اور پھر دہلی میں شاہی ملازمت اِختیار کر لی۔ کچھ عرصے بعد یہاں سے مستعفی ہو کر مہاراجا جے پور کے پاس نوکری قبول کر لی اور آگرہ میں سکونت اِختیار کی۔ 1795ء یا 1796ء میں غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان کا عقد آگرہ کے ایک فوجی افسر خواجہ غلام حسین خان کی بیٹی عزت النساء بیگم سے ہوا۔ آگرہ میں ہی اِن دونوں سے غالب پیدا ہوئے۔ آگرہ میں 1799ء میں غالب کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان پیدا ہوئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران 18 اکتوبر 1857ء کو قتل ہو گئے تھے۔ غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان ریاست الور میں ملازم تھے اور وہاں 1802ء میں راج گڑھ کے مقام پر ایک جھڑپ میں قتل ہوئے جب کہ غالب کی والدہ کے متعلق آثار و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنوری 1840ء تک بقیدِ حیات تھیں۔ 1802ء میں والد کی وفات کے بعد غالب کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ خان اُن کے سرپرست بنائے گئے جو مرہٹوں کی جانب سے آگرہ کے قلعہ دار تھے۔ 18 اکتوبر 1803ء کو جب آگرہ پر انگریزی افواج نے حملہ کیا تو مرزا نصر اللہ بیگ خان نے قلعہ آگرہ لارڈ لیک کے حوالے کر دیا جس پر انگریزی افواج آگرہ میں داخل ہوگئیں اور مرہٹوں کا اثر ختم ہو گیا۔ لارڈ لیک نے مرزا نصر اللہ بیگ خان کو 1700 روپئے مشاہرے کے ساتھ چار سو گھڑسواروں کا رِسالدار مقرر کر دیا۔ اپریل 1806ء میں مرزا نصر اللہ بیگ خان ہاتھی سے گر کر زخمی ہوئے اور انتقال کرگئے۔ اُن کے پسماندگان میں غالب اور اُن کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان بھی شامل تھے۔4 مئی 1806ء کو نواب احمد بخش خان، نواب ریاست فیروزپور جِھرکا نے انگریزوں سے سفارش کرکے پسماندگان کا وظیفہ دس ہزار روپئے مقرر کروا دیا جس میں غالب کی دادی، تین پھوپھیاں اور چھوٹا بھائی بھی شامل تھا۔ 7 جون 1806ء کو وظیفہ کی یہ رقم دس ہزار سے کم کرکے پانچ ہزار کردی گئی۔  غالب نے 11 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ ان کی پہلی زبان اردو تھی لیکن گھر میں فارسی اور ترکی بھی بولی جاتی تھی۔ اس نے چھوٹی عمر میں ہی فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ غالب کے دور میں، ’’ہندی‘‘ اور ’’اردو‘‘ کے الفاظ مترادف تھے (کا عنوان تھا اودے ہندی (اردو: عودہندی، ہندی کا خوشبو(جب غالب کی عمر 14 سال تھی تو ایران سے ایک نیا مسلمان سیاح (عبد صمد، جس کا اصل نام ہرمزد تھا، ایک زرتشتی) آگرہ آیا۔  وہ دو سال تک غالب کے گھر رہے اور انہیں فارسی، عربی، فلسفہ اور منطق کی تعلیم دی۔ شعرگوئی  کے ابتدائی ماخذوں سے پتا چلتا ہے کہ غالب کی شعرگوئی کا آغاز 1807ء سے ہوا اور اولین تخلص اسد تھا لیکن بعد ازاں اُنہوں نے ایک اور شاعر میر اَمانی اسد سے کلام کی مشابہت کے بعد اپنا تخلص غالب اختیار کر لیا تاہم شاعری میں کبھی کبھی اسد بطور تخلص کے ملتا ہے۔ 1816ء سے غالب بطور تخلص کے استعمال کرنا شروع کیا جو تا وقت آخر جاری رہا۔  مرزا غالب کی تصانیف میں  دیوانِ غالب  :اس میں مرزا کا اردو کلام ہے جس میں غزلوں کے علاوہ قصائد، قطعات اور رباعیات ہیں۔  دستنبو:  اس کتاب میں 1850 سے لے کر 1857 تک کے حالات درج ہیں۔ یہ کتاب فارسی میں ہے جو پہلی بار 1858 میں شائع ہوئی۔ اردو میں اس کا ترجمہ خواجہ احمد فاروقی نے کیا ہے  ۔مہر نیمروز  :تیمور سے ہمایوں کے عہد تک کے حالات لکھے۔ پھر بادشاہ کی فرمائش پر حکیم احسن اللہ خاں نے حضرت آدم سے چنگیز خاں تک کی تاریخ مرتب کی جسے غالب نے فارسی میں منتقل کیا۔  قاطع بُرہان:  فارسی لغت ’’برہانِ قاطع‘‘ از مولوی محمد حسین تبریزی کا جواب ہے۔ قاطع برہان کی اشاعت 1861 میں ہوئی بعد میں اعتراضات کا اضافہ کرکے غالب نے اسی کو’دُرفش کاویانی‘ کے نام سے 1865 میں شائع کیا  ۔میخانۂ آرزو  :فارسی کے کلام کا پہلا ایڈیشن 1845 میں اسی نام سے چھپا۔ پھر بعد میں کلیات کی شکل میں کئی ایڈیشن چھپے  ۔سبد چین  :اس نام سے فارسی کلام1867 میں چھپا۔ اس مجموعے میں مثنوی ابر گہربار کے علاوہ وہ کلام ہے جو فارسی کے کلیات میں شامل نہیں ہو سکا تھا۔دعائے صباح:عربی میں دعا الصباح حضرت علی سے منسوب ہے۔ غالب نے اسے فارسی میں منظوم کیا۔ یہ اہم کام انھوں نے اپنے بھانجے مرزا عباس بیگ کی فرمائش پر کیا تھا۔  عودہندی:  پہلی مرتبہ مرزا کے اردو خطوط کا یہ مجموعہ 1868 میں چھپا۔اردوئے معلیٰ:غالب کے اردو خطوط کا مجموعہ ہے جو 1869 میں شائع ہوا۔  مکاتیب غالب  :مرزا کے وہ خطوط شامل ہیں جو انھوں نے دربار رامپور کو لکھے تھے اور جسے امتیاز علی خاں عرشی صاحب نے مرتب کرکے پہلی مرتبہ 1937 میں شائع کیا  ۔نکات غالب رقعات غالب:نکات غالب میں فارسی صَرف کے قواعد اردو میں اور رقعات غالب میں اپنے پندرہ فارسی مکتوب ’پنج آہنگ‘ سے منتخب کرکے درج کیے تھے۔ غالب نے ماسٹر پیارے لال آشوب کی فرمائش اور درخواست پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔  قادرنامہ:  مرزا نے عارف کے بچوں کے لیے آٹھ صفحات پر مشتمل یہ ایک مختصر رسالہ قادرنامہ لکھا تھا جس میں ’خالق باری‘ کی طرز پر فارسی لغات کا مفہوم اردو میں لکھا گیا تھا۔